خواب دکھانے کے لیے لوگ ہیں نا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiخواب دکھانے کے لیے لوگ ہیں نا
نیندیں چرانے کے لیے لوگ ہیں نا
اپنا تو معیار ذرا اونچا ہی رکھ
خامی دکھانے کے لیے لوگ ہیں نا
اچھا اگر کرنا ہے خود کو ابھی کر
گھٹیا بنانے کے لیے لوگ ہیں نا
پیار مجھے راس نہیں آیا کبھی
مجھ کو رلانے کے لیے لوگ ہیں نا
دشمنی اچھی تو نہیں ہوتی کبھی
دل میں بسانے کے لیے لوگ ہیں نا
میرے جنازے پہ نہیں آئے صنم
آنسو بہانے کے لیے دوست ہیں نا
چلتی ہے حکومت مری شہزاد یہاں
پیسہ لٹانے کے لیے دوست ہیں نا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






