خواب کی بات بھی آنکھوں سے سنا سکتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاحُسن والوں سے محبت کو بڑھا سکتے ہیں
خواب کی بات بھی آنکھوں سے سنا سکتے ہیں
زندگی اپنی یہ پھولوں کی کوئی سیج نہیں
کوئی نغمہ تو محبت کا سنا سکتے ہیں
چاند کاٹے گا کہاں رات سہانی اپنی
چاند چہرے پہ اگر آج مسکرا سکتے ہیں
مرے چہرے پہ غمَ دشت کی پر چھائی ہیں
مجھ کو اب پیار کا پیکر تو بنا سکتے ہیں
مجھ سے کیوں دور بسایا ہے زمانہ تو نے
دل کی مسجد میں کبھی بیٹھ دعا سکتے ہیں
تیری تصویر خیالات میں رہتی ہے سدا
کوئی ایسی بے قراروں کو بھلا سکتے ہیں
موسمِ گل پہ بھی کیوں آج خزاں ہے بھاری
شام اتری تو کئی زخم دکھا سکتے ہیں
لوگ کرتے ہیں زمانے میں وفا کی باتیں
جیسے سب عشق کے ماروں کو ملا سکتے ہیں
ایسی تنہائی سے بہتر ہے فنا ہو جانا
غم کی اس دھوپ میں زلفوں کو گھٹا سکتے ہیں
وہ جو بچھڑا تو پریشان خیالات رہے
وشمہ اس درد کے عالم کو بتا سکتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






