خوابوں کو تعبیر ملے
Poet: Rana Tabassum Pasha(Daur) By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAخوابوں کو تعبیر ملے
بس جذبہء تعمیر ملے
دوائے دل اکسیر ملے
دعاؤں کو تاثیر ملے
تیرے نام کی لکیر ملے
میرےہاتھوں پہ تحریر ملے
کیسے کوئی بچ پائے گا
جب زلف گرہ گیر ملے
میرے حسن کا قیدی
عشق کا اسیر ملے
تجدید الفت کر ڈالی
کوئی نئی تعزیر ملے
تنکے ڈھونڈنے والوں کو
آنکھوں میں شہتیر ملے
کاغذ کے پھولوں سے
عنبر ملے یا عبیر ملے؟
یاد گلے کا ہار بنے
جب درد کی زنجیر ملے
رعنا نے دل تھام لیا
جگر میں اتنے تیر ملے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






