خوابیدہ ہے زندگی میری مر دیا جائے مُجھے
Poet: علی گوھر لغاری By: Ali gohar laghari, Mirpurkhas مجبور کردیا اب کے ہنسایا جائے مُجھے
خوابیدہ ہے زندگی میری مار دیا جائے مُجھے
اب کے اتنا ظلم نہ کر مجھ پر ظالم نظریں
نظر کو نظر انداز کرکے بچایا جائے مُجھے
وہ کون تھے کہاں سے آئی کیا پتہ کیسے کو
زُلفیں اسکے مراسم سے بھاگی جائے مُجھے
پل بھر میں جو کچھ تھا اب نہ رہا کچھ
جو کچھ میرا تھا جلد لوٹایا جائے مُجھے
میں رات دِن دیکھتا رہتا تھا خوابوں میں
اب کے خوابی گلستاں سے نکلا جائے مُجھے
پہلے معیت سجائے گئے میری اس شہر میں
اب تو پھول بیچائے اور جلد دفنایا جائے مُجھے
کیا بات ہے بھوت دیر ہوگئے فرشتے نہیں اے
خُدا کے بندوں اب تو خدا سے ملا یا جائے مُجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








