خواہشوں کے موسم میں!

Poet: رامش علی امر! By: Wafa Sagar, Multan

خواہشوں کے موسم میں
بارشوں میں یادوں کی
خاردار جھاڑیوں ک
دل میں نکل آن
کیا عجیب لگتا ھے؟؟؟
نوک در نوک چبھتے رھن
بیتے سارے لمحوں ک
وجود سے لپٹ جان
خواہشوں کی عمروں ک
کیا عجیب لگتا ھے؟؟
رات دن تڑپتے رھن
روشنی کو ترسن
بوند بوند پانی ک
ساری رات رسن
کیا عجیب لگتا ھے؟؟
بات بات رون
بے بات ھنسن
پوچھنے پہ لوگوں کے
بہانے ایسے گھڑن
کیا عجیب لگتا ھے؟؟
زندگی میں اپنی
خوش ھو کہ مسکران
ھر بیتے ھوئے دکھ کو
بس خود ھی بھول جان
زخموں کو پرانے
نہ خود پہ اوڑھ لان
کیا عجیب لگتا ھے؟؟
زندگی میں سب ہی
اک فریب لگتا ھے
لگتا کچھ بھی صحیح نہیں
سب عجیب لگتا ھے۔

Rate it:
Views: 529
19 Jan, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL