خواہشیں اپنی
Poet: siraj aalam By: siraj aalam, akola maharashtraخواہشیں اپنی دبانے بھی نہیں دیتا ہے
خواب پلکوں پے سجانے بھی نہیں دیتا ہے
یہ تکبر ہے یا پھر کوئی ادا ہے اس کی
روٹھ جاتا ہے منانے بھی نہیں دیتا ہے
یاد بن کر وہ مرے ذہن میں آجاتا ہے
مجھ کو تنہائی میں جانے بھی نہیں دیتا ہے
اک مرا پیشہ جو کہتا ہے کہ ہجرت کر لے
اک تیرا پیار جو جانے بھی نہیں دیتا ہے
آنکھوں آنکھوں میں چُرا لیتا ہے دل کو عالم
اور مجھے شور مچانے بھی نہیں دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






