خوبصورت آنکھوں والےلوگ
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamخوبصورت آنکھوں والےلوگ ہمیں پیارےلگتےہیں
ان کےسامنےماند سارےہی چاند ستارےلگتےہیں
رات کو جب اس کی آنکھوں کو غورسےدیکھوں
اندھیری شب کی تاریکی میں وہ شرارےلگتےہیں
ہم جب اس کی آنکھوں کےبھنورمیں کھوجاتےہیں
پھر کئی دن نہ ہم کسی ساحل کےکنارےلگتےہیں
اپنی کسی ہمسائی سےاب ہم پیار نہیں کرتے
ان کاموں میں فائدے کم زیادہ خسارےلگتےہیں
پڑوسن کی ساس سےاب دورہی رہتےہیں
اس ستمگر کے نینا تو مجھےدودھارےلگتےہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






