خوبصورت یاد دہانی
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubaiسنو جاناں
اگرمیں ہارجاؤں تو ، مجھے تم حوصلہ دینا
بچوں کی طرح مجھ کو گلے سے تم لگا لینا
مجھے رونے نہیں دینا ، مجھے کچھ ایسے بہلانا
مجھے تم یاد کروانا سبھی باتیں جو اچھی ہیں
وہ پچھلی ہار کی باتیں جسے میں نے جیت میں بدلہ
وہ پھر سے یاد کروانا، تم کچھ ایسے دہرانا
وہ میرا ٹوٹ کےجڑنا
وہ میرا رو روکے ہنس دینا
وہ دعا مانگنا میرا ، وہ سجدوں میں میرا گرنا
وہ میرا سمیٹنا خود کو، وہ ہولےہولےکھڑا ہونا
مجھے تم بولنےدینا، نیا دکھ پھولنے دینا
ہمیشہ کی طرح اس ہار کا بھی کوئی سبب ہوگا
وہ مجھ سے جان لینا تم ، تمھارے کام آےگا
میری جاناں !میری ھمدم!میری اک بات مانوگی
میری ہاروں کوسہہ لینا ، تم میرے ساتھ ہی رہنا
مجھے تم تھپکیاں دینا، میرے بالوں کو سہلانا
کہ میرا حوصلہ تم ہو
کہ میرا گھونسلا تم ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







