خود اپنے خوں سے رہِ یار کو سنوار آئے
Poet: عین رحمٰن By: عین رحمٰن, ایبٹ آبادخود اپنے خوں سے رہِ یار کو سنوار آئے
وہ رہروانِ رہِ عشق ، جب بہار آئے
حضورِ یار ہوئی جب طلب دیوانوں کی
دریدہ دامن و دل لے کے جاں نثار آئے
کسی نے عشق، کسی نے کہا جنون و فسوں
اِدھر اُدھر سے کئی القاب میرے یار آئے
ڈٹے رہے تیرے مسلک پہ تیرے شیدائی
گو ناصحوں کے سندیسے بھی بے شمار آئے
جنون والوں پہ گزرتی ہے جو وہی گزری
سو جُھومتے ناچتے نکلے تھے اشکبار آئے
مگر دیوانوں کا دو چند ہو گیا ہے جنوں
طوافِ کوچہء جاناں ، کو بار بار آئے
قبائیں چاک گلوں کی اسی جنوں کے سبب
فضا میں نشہ ہی نشہ ہو ، جب بہار آئے
نہ، کیا سبب ہے درِ یار چھٹ سکا ،گرچہ
سدا ، مسافرانِ رہِ یار دل فگار آئے
قضا بھی آکے ٹھر سی گئی دیوانوں کی
کہ لے کے چل سکے انہیں، کچھ دیر گر قرار آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






