خود اپنے صحن میں گردن جھکا کے ٹھہرے تھے
Poet: rafiq sandeelvi By: rashid sandeelvi, islamabadخود اپنے صحن میں گردن جھکا کے ٹھہرے تھے
مکین شہر کے مجرم تھے ، گھر کٹہرے تھے
بدن کے پیڑ گھٹن میں نمو د کیا پاتے
ہوائیں پا بہ سلاسل تھیں، رت پہ پہرے تھے
میں اس کے لمس کی آواز چھو کے کیا کرتا
کہ میری انگلیاں گونگی تھیں، ہاتھ بہرے تھے
رگوں میں قحط کا پھر خوف رینگتا کیوں تھا
ہماری فصل کے خوشے اگر سنہرے تھے
اکیلی رانی کہاں تک مدافعت کرتی
کہ ابکے راج محل میں شگاف گہرے تھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






