خود سے گھبرانے میں لگا ہوا ھے

Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK

 خود سے گھبرانے میں لگا ہوا ھے
پیار سے جی چرانے میں لگا ہوا ھے

دل کو آ کر کے سمجھا ئو کوئی۔
کہ آنسو بہانے میں لگا ہو ا ھے۔

خوشی ایک پل راس نہیں اس کو۔
بار غم اٹھانے میں لگا ہو ا ھے۔

جرعت اظہار رکھتا ھے لیکں!!!۔
خوف ہی کھانے میں لگا ہو ا ھے۔

کیا ہی ضد پر اڑا ھے دل ناداں۔
کیا ہی بچگا نے میں لگا ہو ا ھے۔

ایک زندگی سے مطمعن نہیں شاید۔
سات جنم آ زمانے میں لگا ہو ا ھے۔

وعدہ وفا وہ نبھا نے کا ھے پکا۔
عہد ے وفا نبھا نےمیں لگا ہوا ھے۔

یہاں موت کا بھروسہ نہیں اور۔
وہ زندگی بچا نے میں لگا ہو ا ھے۔

کہتا ھے سرمایہ حیات ھے وہ اپنے۔
شاید اس لیئے بچانے میں لگا ہوا ھے۔

کس کے گلے ڈالیں یہ آزار الفت؟
ہر کوئی جان چھڑانے میں لگا ہوا ھے

صاف کہہ دے اگر پیار نہیں اس کو۔
کیوں دل کو جلانے میں لگا ہوا ھے؟

عشق کی گٹی اسد پینا نہیں آساں۔
اور یار ہمیں پلانے میں لگا ہوا ھے

Rate it:
Views: 761
28 Jul, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL