خود سے گھبرانے میں لگا ہوا ھے
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK خود سے گھبرانے میں لگا ہوا ھے
پیار سے جی چرانے میں لگا ہوا ھے
دل کو آ کر کے سمجھا ئو کوئی۔
کہ آنسو بہانے میں لگا ہو ا ھے۔
خوشی ایک پل راس نہیں اس کو۔
بار غم اٹھانے میں لگا ہو ا ھے۔
جرعت اظہار رکھتا ھے لیکں!!!۔
خوف ہی کھانے میں لگا ہو ا ھے۔
کیا ہی ضد پر اڑا ھے دل ناداں۔
کیا ہی بچگا نے میں لگا ہو ا ھے۔
ایک زندگی سے مطمعن نہیں شاید۔
سات جنم آ زمانے میں لگا ہو ا ھے۔
وعدہ وفا وہ نبھا نے کا ھے پکا۔
عہد ے وفا نبھا نےمیں لگا ہوا ھے۔
یہاں موت کا بھروسہ نہیں اور۔
وہ زندگی بچا نے میں لگا ہو ا ھے۔
کہتا ھے سرمایہ حیات ھے وہ اپنے۔
شاید اس لیئے بچانے میں لگا ہوا ھے۔
کس کے گلے ڈالیں یہ آزار الفت؟
ہر کوئی جان چھڑانے میں لگا ہوا ھے
صاف کہہ دے اگر پیار نہیں اس کو۔
کیوں دل کو جلانے میں لگا ہوا ھے؟
عشق کی گٹی اسد پینا نہیں آساں۔
اور یار ہمیں پلانے میں لگا ہوا ھے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






