خود کو آزما کے روئیں گے

Poet: By: Maria Ghouri, HarooNAbad

زخم دل چھپا کے روئیں گے
خود کو آزما کے روئیں گے

دل رہے گا تیرا منتظر
جانے واے تجھ کو کیا خبر

ہم تجھے بھلا کے روئیں گے
خود کو آزما کے روئیں گے

خواب تھا جو ختم ہو گیا
جاگے تو نصیب سو گیا

آج مسکرا کے روئیں گے
خود کو آزما کے روئیں گے

بے خطائی بن گئی سزا
اگر ہوا نا یہاں فیصلہ

سامنے خدا کے روئیں گے
خود کو آزما کے روئیں گے

میں نے پیار تم سے ہے کیا
تونے درد مجھ کو ہے دیا

آنسو بھی چھپا کے روئیں گے
خود کو آزما کے روئیں گے

کچھ تو پیغام مجھ کو دے
ایسے نا الزام مجھ کو دے

ایک دن وفا پہ روئیں گے
خود کو آزما کے روئیں گے

زخم دل چھپا کے روئیں گے
خود کو آزما کے روئیں گے

نوٹ: یہ شاعری میری نہیں اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کس کی ہے اچھی لگی دل کو چھوئی خود کا عکس نظر آیا تو آپ سب ساتھیوں اور ویب کے قارئین کے ساتھ شئیر کی.

Rate it:
Views: 2299
11 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL