خود کو کچھ سمجھا ہی نہیں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Sadui Arabiaخود کو کچھ سمجھا ہی نہیں
ُاسے ہی بس اپنا کہتی رہی
پگھل نہ سکا ضمیر ُاس کا
میں آنسووں کا دریا بہاتی رہی
محبت میں کسی کو دھوکہ نہیں دیتے
بات پے بات ُاسے سمجھاتی رہی
وعدے توڑ کر وہ ُمکر گیا کیسے
اور میں وفایئں نبھاتے جلتی رہی
وہ موڑ بھی آخر آ ہی گیا زندگی میں
جس موڑ سے سالوں سے دامن بچاتی رہی
تیری تلخیاں لے ڈوبی مجھے لکی
میں خشک دریا میں پیار کی ناّؤ چلاتی رہی
موسم تو پھر موسم ہیں ، وہ شخص بھی بدل گیا
جس کے مان پے میں دنیا کو دشمن بنھاتی رہی
تقدیر نے دھوکہ ہی دیا ایسے مقام پے آ کر
جہاں چاروں طرف طوفان تھا اور میں دیے پے دیا جلاتی رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






