خود کی دنیا
Poet: By: Hukhan, karachiاب جا کے عمر بھر کی کمائی پائی ہے
اک صورت آنکھ سے ہو کے دل میں سمائی ہے
اک سفر دلِ بے کراں کے بعد فرصت پائی ہے
بہت سے طوفانوں کے بعد یہ راحت پائی ہے
ساتھ چلنے کی قسم اس نے بھی کھائی ہے
ختم ہو گی تنہائی اب امید بر آئی ہے
برسوں بعد سچی مسکان ہم نے پائی ہے
کچھ لالی رخساروں کی پھرسے لوٹ آئی ہے
دلِ ناشاد نے عجب خوش خبری پائی ہے
ساتھ جینے کی قسم اس نے کھائی ہے
خان چھوڑو دنیا کو اب
دل نے خود کی دنیا بسائی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






