خود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
Poet: Hooba By: Hooba, attockخود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
ابھی بجھنے بھی نہیں پاتی آگ پھر سے لگا دیتے ہو
پیار ہے تمہیں غیروں سے، غیروں سے ہے پیار تمہیں
پیار کرتے ہو غیروں سے اور اپنوں کو دغا دیتے ہو
ہو رکھتے یاد اوروں کو، اوروں کو یاد رکھتے ہو
یاد رکھتے ہو اوروں کو اور اپنوں کو بھلا دیتے ہو
ہم ترستے ہیں اک دیدار کو، اک دیدار کو ترستے ہیں ہم
ہمیں تڑپاتے ہو دیدار کو ہائے کتنا جینے کا مزا دیتے ہو
رکھتے ہو خوش رقیبوں کو، رقیبوں کو خوش رکھتے ہو
نکلتے ہو محفل سے رقیبوں کی دل اپنوں کا جلا دیتے ہو
رکھتے ہو دور دور ہم کو، ہم کو دور دور رکھتے ہو
دور کرتے ہو پہلے خود ہی پھر خود ہی بلا دیتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت کے، محبت کے چراغ جلاتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت خود ہی پھر خود ہی ہوا دیتے ہو
مجھے کرتے پھرتے ہو بدنام، بدنام کرتے پھرتے ہو مجھے
مجھے کرتے ہو بدنام زمانے میں یہ محبت کی جزا دیتے ہو
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






