خود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
Poet: Hooba By: Hooba, attockخود ہی سلگھاتے ہو چنگاڑی پھر خود ہی بجھا دیتے ہو
ابھی بجھنے بھی نہیں پاتی آگ پھر سے لگا دیتے ہو
پیار ہے تمہیں غیروں سے، غیروں سے ہے پیار تمہیں
پیار کرتے ہو غیروں سے اور اپنوں کو دغا دیتے ہو
ہو رکھتے یاد اوروں کو، اوروں کو یاد رکھتے ہو
یاد رکھتے ہو اوروں کو اور اپنوں کو بھلا دیتے ہو
ہم ترستے ہیں اک دیدار کو، اک دیدار کو ترستے ہیں ہم
ہمیں تڑپاتے ہو دیدار کو ہائے کتنا جینے کا مزا دیتے ہو
رکھتے ہو خوش رقیبوں کو، رقیبوں کو خوش رکھتے ہو
نکلتے ہو محفل سے رقیبوں کی دل اپنوں کا جلا دیتے ہو
رکھتے ہو دور دور ہم کو، ہم کو دور دور رکھتے ہو
دور کرتے ہو پہلے خود ہی پھر خود ہی بلا دیتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت کے، محبت کے چراغ جلاتے ہو
جلاتے ہو چراغ محبت خود ہی پھر خود ہی ہوا دیتے ہو
مجھے کرتے پھرتے ہو بدنام، بدنام کرتے پھرتے ہو مجھے
مجھے کرتے ہو بدنام زمانے میں یہ محبت کی جزا دیتے ہو
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں






