خودکشی کرنے والی 26 سالہ شاعرہ کے نام

Poet: تنہاؔ لائلپوری By: Tanha Lyallpuri, Faisalabad

فکر و تدبیر کے کوزے میں سما سکتے ہیں
مسئلے عشق کے سلجھائے بھی جا سکتے ہیں

لوحِ محفوظ نہیں قصۂ رنج و غمِ ہجر
چند الفاظ ہیں، تحریر میں آ سکتے ہیں

وہ زمانے کے خداوند ہیں، ناچار نہیں
پردۀ غیب سے آواز لگا سکتے ہیں

چشمِ موسیٰؑ نہیں دیدار کی مشتاق فقط
مدعا ہم بھی زباں پر کوئی لا سکتے ہیں

ہو گیا آمدِ مہمانِ خصوصی کا وقت
اب فرشتے نئے قالین بچھا سکتے ہیں

کیا ضروری ہے شبِ وصل بچھونے مہکیں
بسترِ مرگ بھی پھولوں سے سجا سکتے ہیں

غیر کے ساتھ ہوں، بے وقعت و کم ظرف نہیں
آپ محفل میں مجھے پاس بٹھا سکتے ہیں

باغِ جنت میں بہت وقت میسر ہے ہمیں
یعنی اب ہم تری تصویر بنا سکتے ہیں

دے چلے ضعف میں بیمار کے اعصاب جواب
آپ تکیے سے قلم دان اٹھا سکتے ہیں

ہم ہوئے دشت و بیاباں کے مسافر تنہاؔ
کوچۂ یار کی راحت کہاں پا سکتے ہیں

Rate it:
Views: 258
22 Mar, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL