ٹہنیوں پر شعر

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

چٹختے جائیں خیالوں کی ٹہنیوں پر شعر
کہ گل رخوں پہ لکھوں اور تتلیوں پر شعر

یہ بیت میرا تجھے ہچکیاں بندھا دے گا
کہے ہیں یوں تو بہت میں نے سسکیوں پر شعر

یہ اور بات کہ ہیں کور چشم اپنے لوگ
نمایاں میں نے رکھے برف چوٹیوں پر شعر

پگھل کے آب ہؤا ایک شخص برف مزاج
بڑے وثوق سے لکھتا تھا گرمیوں پر شعر

اٹھا اجیر کے تن سے جو بھاپ بن کے ابھی
دھویں سے ابر بنا آج چمنیوں پر شعر

جو آدمی کے لیئے ہوں کلنک کا ٹیکہ
اثر کرے گا نہ کچھ ایسے وحشیوں پر شعر

زمانہ ساز تھے کچھ، کچھ تو خود پرست بھی تھے
لکھائے تھپکی پہ کچھ نے تو دھمکیوں پر شعر

سبھی ہیں مست سے جنگل میں، ایک میں کہ مجھے
ملے ہیں رقص کناں خشک جھاڑیوں پر شعر

کیا ہے اس نے مرے غم سے جو تہی پہلو
رشیدؔ میں نے بھی رکھ چھوڑے پُتلیوں پر شعر

Rate it:
Views: 6
23 Apr, 2026
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL