خوش رہے سارا جہاں ہم تو چلے

Poet: farah ejaz By: farah ejaz, dearborn, mi USA

خوش رہے سارا جہاں ہم تو چلے
محفل سے نکلے تو جانے اب کدھر کو چلے

شام سنگ لے آئی تنہائی کے عزاب
ابھی رات باقی ہے اف یہ عذاب تو ٹلے

صبح کی پہلی کرن رت جگوں کا نشان مٹا گئی ورنہ
ہم ہر رازّ دل سے پردہ اٹھانے کو چلے

عشق و عاشقی کے فسانے پڑھتے رہے سبھی مگر
الفت میں کون ہے جو مٹنے کو چلے

آشیانے کو آگ دکھا کر جلنے کا تماشہ دیکھتے رہے
تماشبین دہائی دینے کس کے نشیمن کو چلے

دھرتی پر جب ملا نہیں نشان اپنے ہی وجود خاکی کا
ہم نئی کہکشائوں میں اسے ڈھونڈنے کو چلے

فاصلے رکھ کر ملتے رہے ہم سے فرح وہ تو سدا
جانے کیوں اب دلوں کی سرحدیں مٹانے کو چلے

Rate it:
Views: 618
02 Jun, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL