خول چڑھائے ہُوئے آ جاتے ہیں

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

خول چہروں پہ چڑھائے ہوئے آ جاتے ہیں
لوگ کرتُوت چُھپائے ہوئے آ جاتے ہیں

گھر سے نکلے کوئی عورت تو ہوس کے پیکر
ہر طرف گھات لگائے ہوئے آ جاتے ہیں

جب بھی یاروں کی عنایات کا چرچا ہو تو ہم
زخم سینوں پہ سجائے ہوئے آ جاتے ہیں

کام کرنے پہ انہیں موت نظر آتی ہے کیا ?
وہ جو کشکول اٹھائے ہوئے آ جاتے ہیں

میری محفل میں مرے نعرے لگاتے ہوئے لوگ
نفرتیں دل میں چُھپائے ہوئے آ جاتے ہیں

میں زمانے کا ستایا ہوں مرے در پہ یونہیں
سب زمانے کے ستائے ہوئے آ جاتے ہیں

روز باقرؔ میرے مرقد پہ مرے ہی قاتل
شکل معصُوم بنائے ہوئے آ جاتے ہیں
 

Rate it:
Views: 643
10 Mar, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL