خون دل آنکھ سے جو جاری ہے

Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi

 خون دل آنکھ سے جو جاری ہے
مہربانی یہ سب تمھاری ہے

پھر وہی میں ہوں، آہ و زاری ہے
پھر مرے دل پہ رات بھاری ہے

اپنی قسمت میں اشک باری ہے
صبر و تسلیم خو ہماری ہے

جسکو احساس تک نہیں میرا
اس ستمگر سے میری یاری ہے

تو نے نظریں اٹھا کے جو دیکھا
ہر طرف رسم میگساری ہے

بوٹ لیتے ہیں مست آنکھوں سے
انکی مستی میں ہوشیاری ہے

آدمی کو غرور لے ڈوبا
نوحہ زن آج انکساری ہے

شان رحمت بھی جوش میں آئی
قابل عفو شرمساری ہے

ناز اٹھواتے کل تلک ، تم تھے
آ گئی آج میری باری ہے

رند جس کے ہیں منتظر، وہ فقط
پیر مخانہ کی سواری ہے

لوگ حیراں مری غزل سے ہوئے
تذکرہ ہر زباں پہ جاری ہے

راز دل کر دیا سبھی افشا
واہ کیا خوب راز داری ہے

گلشن شعر خون سے سینچا
خوب رومی کی آبیاری ہے

Rate it:
Views: 571
09 Apr, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL