خونی سا امبر لگتا ہے

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگ

خونی سا امبر لگتا ہے
پھر میرے ہی سر لگتا ہے

لٹنے کو اب کیا ہے باقی
کیسا تجھ کو ڈر لگتا ہے

اب تو گورستاں کی صورت
مجھ کو اپنا گھر لگتا ہے

روک نہ دے وہ سانسیں میری
بوجھ جو سینے پر لگتا ہے

شہر کے پاپوں کا الزام
بس میرے ہی سر لگتا ہے

جگ کہتا ہے جس کو مندِر
مجھ کو تیرا گھر لگتا ہے

ہر سودائی تب سوتا ہے
جب میرا بستر لگتا ہے

اس کے منہ پر خیر کی باتیں
پیچھے کوئی شر لگتا ہے

آنکھیں بند بھی ہوں میری تو
تیر نشانے پر لگتا ہے

سچ سچ دیپک کہتا ہے سب
جھوٹا جھوٹا پر لگتا ہے

Rate it:
Views: 397
11 Jun, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL