خُدا جانے کیسے شاعر نہا ل بنایا تُم نے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaریشم زلفوں کا یہ کیسا جال بنایا تُم نے
نظروں سے تیر چلایا بے حال بنایا تُم نے
لبوں پے میری جان آ گئی ہے اور
لوگ تجھے کہتے ہیں دیوانہ کمال بنایا تُم نے
تیرے رُخسار پے سیاہ تِل کا ہونا اتفاق نہیں
سنا ہے اپنے حُسن کا پہریدار بنایا تُم نے
ہونٹ تیرے شگفتہ گلاب ہو جیسے
سرور اتنا کہ شراب ہو جیسے
نہ نہال نے کوئی اتنا حسین دیکھا
تُو کو مل پری لا جُواب ہو جیسے
نظریں تیری جانب اور قلم چلتی گئی
خُدا جانے کیسے شاعر نہا ل بنایا تُم نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






