خیال
Poet: Mubeen By: Mubeen, Islamabadرات آنگن میں چاند اترتے دیکھا
چاندنی کو چار سو بکھرتے دیکھا
جھلمل کر رہی تھی ستاروں کی چادر
غم جہاں کو پہلو سرکتے دیکھا
نور کا ہالہ تھا یا مجسم کوئی
خواب حقیقت میں بدلتے دیکھا
سب باتیں کیں آج دل نے
مدتوں بعد آرزؤں کو بہلتے دیکھا
جسم پتھر بن گیا حیرانی میں
روح کو نکل کر جھومتے دیکھا
کوئی راگ تھا یا نغمہ بلبل کا
یادوں کے دریچے کھلتے دیکھا
سحرآئی تو یوں ٹوٹا سب طلسم
رخسار گل پر آنسو سرکتے دیکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






