داستان حیات۔

Poet: Abdul Wasay Baloch By: Abdul Wasay Baloch, Dubai

کیا سناؤں آپ کو میں ٹوٹے دل کی داستاں
میں نگر نگر پھرا بہت مگر ملا نہ کوئی مہرباں

ہر ستم عظیم سے عظیم تر اور طنز میں ڈوبے قہقہے
ملا نہیں سکوں مجھے دیئے زندگی نے دکھ یہاں

ہر ستم پہ کیا صبر و شکر کہ الٰہی تیری جناب سے
جو خوشی ملی تھی مختصر نئے دکھ اترے میری رگَ جاں

ہر عذاب نے مجھے مٹا دیا ہر ستم نے مجھ کو جلا دیا
میں مثلَ زندہ لا ش جیا کبھی ملا نہیں سکوں یہاں

ہر دکھ جو اپنوں نے دیئے ہر غم پر یوں خوش رہے
غیروں نے دیئے مجھے حوصلے اپنوں نے لیئے اًمتحاں

یہ حیات رہی مختصر واسع جو کبھی قضا نے دی سدا
ہم خوشی خوشی تھے چل پڑے نہ رہا ہمارا کوئی نشاں

Rate it:
Views: 896
26 Dec, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL