داستان محبت
Poet: محمد ہارون مغل By: محمد ہارون مغل, کراچیاِک داستاں پرانی سن رہا تھا میں
روتی آنکھوں کی زبانی سن رہا تھا میں
شور تو اُس وقت بھی تھا میرے گماں میں
جب چپ چاپ سوکھے پتے جدائی کے چُن رہا تھا میں
میری قلم نے تذکرے بہت چھیڑے تھے
ان کے خلاصے میں آنکھ کے آنسو تیرے تھے
بالآخر رخسار پے ٹپک آئے آنسو
اس بار یہ اُس کے نہیں میرے تھے
پلکیں جو اُٹھا اٰس نے دیکھا مجھے
ششدر آنکھوں سے چند لمحے اس نے دیکھا مجھے
اور اٹھ کے بجلی کی سی تیزی سے لپٹ گئی مجھ سے
پھوٹ کے رونے لگی اور کہنے لگی
بھول تھی میری۔۔۔ بھول تھی جو تم کو چھوڑا
اپنا ہنستا بستا پیارا سا رشتہ توڑا
میں مسکرا کے چل دی اور تمہیں روتا ہوا چھوڑا
پر میں بھی خوش نہ تھی جو تیرا اعتبار توڑا
سن کے داستان اُس کی ناکام محبت کی کہا میں نے
کچھ نہیں چپ!میری جان تو آگئی واپس یہی بہت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






