داستاں تو نہیں ہوں میں ہرگز
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaداستاں تو نہیں ہوں میں ہرگز
اک گُماں تو نہیں ہوں میں ہرگز
ڈھونڈتا ہے مجھے خیالوں میں
پر وہاں تو نہیں ہوں میں ہرگز
ڈانٹئے گا تو شور کر دوں گا
بے زباں تو نہیں ہوں میں ہرگز
تُم کو کھو کر جو مُسکُراتا ہوں
شادماں تو نہیں ہوں میں ہرگز
سر کا سایہ سمجھ کے رکھا ہے
سائباں تو نہیں ہوں میں ہرگز
تُم پہ برسوں کی مہربانی ہے
ناگہاں تو نہیں ہوں میں ہرگز
چوڑیاں تو نہیں پہن رکھیں
ناتواں تو نہیں ہوں میں ہرگز
کہ رہا تھا مجھے اُڑا دے گا
اک دھنواں تو نہیں ہوں میں ہرگز
جانے کیوں تُجھ سے پیار ہے اظہر
مہرباں تو نہیں ہوں میں ہرگز
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






