داغِ دل یوں تو بہت تھے
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreداغِ دل یوں تو بہت تھے ایک بھی شُعلہ نہ تھا
یعنی قسمت میں ہماری حُسن کا جلوہ نہ ۔۔۔تھا
بار ہا دیکھا ہے ہم نے چودھویں کے چاند ۔۔کو
آپ کے چہرے سے بڑھ کر چاند کا چہرہ نہ تھا
اِک جہنّم زار تھی دنیا مگر ایسی نہ۔۔۔۔۔ تھی
تُو بچھڑ جائے گا مجھ سے یہ کبھی سُوچانہ۔۔ تھا
کھینچ کر بازارِ رُسوائی میں لے آئے۔۔۔ مجھے
اور بھی تھے اُس گلی میں میں ہی اِک تنہا نہ تھا
حالِ دل اُن کو سُنانے کا نہیں تھا ۔۔۔حوصلہ
اُن کے دل پر کیا گزرتی ہے کبھی پوچھا نہ تھا
زندگی خوشبو کی مانند اُڑ گئی اپنی۔۔۔۔ وسیم
اور گلشن آرزؤں کا ابھی مہکا نہ ۔۔۔۔۔تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






