دامن میں لعل ہیں یا گہر کچھ نہ پوچھئے
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiجب سے ہوئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے
کس حال میں ہیں قلب و جگر کچھ نہ پوچھئے
گردش میں کیوں ہیں شام و سحر کچھ نہ پوچھئے
کس واسطے ہیں شمس و قمرکچھ نہ پوچھئے
لینا تھا جو بھی کام لیا چشمِ ناز سے
بسمل کا کیوں ہے حال دگرکچھ نہ پوچھئے
ہم نے درونِ دل ہی کیا رازِ دل نہاں
کیسے ہوئی جہاں کو خبرکچھ نہ پوچھئے
اشکِ رواں میں ڈھل گیا خونِ جگر تمام
دامن میں لعل ہیں یا گہرکچھ نہ پوچھئے
کس کی طلب ہے لے چلی دامن کشاں ہمیں
چھانے ہیں کیوں یہ دشت و نگرکچھ نہ پوچھئے
فیصلؔ کسی کی یاد میں دیوانہ ہو گیا
اس دل رُبا کا حال مگر کچھ نہ پوچھئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






