در ِخیال سے آگے نکل کے سوچنا ہے
Poet: syed aqeel shah By: Syed aqeel shah , sargodhaدرِ خیال سے آگے نکل کے سوچنا ہے
مجھے ملال سے آگے نکل کے سوچنا ہے
تُو میرا ہو گا یا کھو جائے گا کہیں تُو بھی
اب اِس سوال سے آگے نکل کے سوچنا ہے
گذشتہ رُت میں تو ماضی کے دُکھ تھے اور تُو تھا
اب مجھ کو حال سے آگے نکل کے سوچنا ہے
بچھڑ کے تم سے ملوں گا تو پھر سے بچھڑوں گا
مجھے وصال سے آگے نکل کے سوچنا ہے
تجھے عروج مبارک رہے مجھے تو خیر
ابھی زوال سے آگے نکل کے سوچنا ہے
ہنر تمام ہوا داد مل گئی ہے تو کیا
مجھے کمال سے آگے نکل کے سوچنا ہے
عقیل درد کی پرچھائیاں کہاں تک ہیں
گذشتہ سال آگے نکل کے سوچنا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






