دراصل وار کیا بھی تھا رقیب نے پیٹھ پر
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiدراصل وار کیا بھی تھا رقیب نے پیٹھ پر
درد جذب ہوا مسکرانے کی ترکیب سیکھ کر
ہمدردی قائم رکھنا تو ان کی نمائش تھی
مجھے عجب ہوا سب کچھ عجیب دیکھ کر
ہاتھ کی لکیروں میں ہیں سب ملال تدبیریں
میں نے ارواح اٹھالیا خود کا نصیب دیکھ کر
دل کے زخم گہرے تھے مگر شور و غل نہ تھا
یہ شگاف جسے دکھائے بھی تو طبیب دیکھ کر
وہ صحرا نورد بدّو آج بھی لامکان ہیں کتنے
وقت کو کہاں رحم آیا کسے غریب دیکھ کر
یہ حُسن خیال و باطل تک ہوتا تو سہی
میں نے پانا پسند کیا اُسے قریب دیکھ کر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






