دربار ء عشق میں ہم دل دان کر کے آۓ ہیں!!!

Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستان

فقیری کے بھی عالم میں شاہانہ انداز اپناۓ ہیں
دربار ء عشق میں ہم دل دان کر کے آۓ ہیں

محبت میں سنو تم عہد و پیمان مت کرنا
تم سے کتنے ہی ہم نے لوگ آزماۓ ہیں

کہیں نہ ٹوٹ جائیں شبنم سے حسیں جزبے
اسی سوچ میں اظہار کتنے ہی چھپاۓ ہیں

ذرا محتاط رہنا تم عشق کی صلیبوں پر
کئ شاہ اس نے فقیری میں الجھاۓ ہیں

تمہیں کیا فرق پڑتا ہے چلو لوٹ جاؤ تم
ہماری روش وفا کی ہے سو اسے ہم نبھاۓ ہیں

اڑے گی خاک تو چرچا سارے شہر میں ہو گا
چھپ کے جو تم نے پرزے چند جلاۓ ہیں

خیال کچھ تو چلو آیا عنبر انہیں میرا بھی
سن کر حالات کو میرے وہ ذرا مسکراۓ ہیں

Rate it:
Views: 546
05 Jul, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL