درد بے شمار...

Poet: اسد جھنڈیر۔۔۔ By: ASAD, mps

 درد بے شمار لیے بیٹھے ہیں
غم سا آزار لیے بیٹھے ہیں

عشق نے نکما کر دیا ہم کو
بس غم روزگار لیے بیٹھے ہیں

یاد آتا ھے کوئی ہمیں اپنا
دل بے قرار لیے بیٹھے ہیں

ایک غم ہو تو کوئی چارہ کیجیئے
غموں کے امبار لیے بیٹھے ہیں

نا خدائی کا اپنے دعوہ نہیں
ہاں مگر بیڑہ پار لیے بیٹھے ہیں

جب دل کو راس نہیں اپنے الفت
پھر کیوں بھار لیے بیٹھے ہیں؟

جس کے آنے کی امید نہیں
اسکا کیوں انتظار لیے بیٹھے ہیں؟

ڈر ھے ہم کو غم کی آندھی کا
دل اسلیئے کشا دار لیے بیٹھے ہیں

جینے کی امید چھوڑ کر اسد
موت کا انتظار لیے بیٹھے ہیں

Rate it:
Views: 1127
27 May, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL