درد جب بے قرار کرتا ہے
Poet: ابنِ منیب By: ابن منیب, سویڈندرد جب بے قرار کرتا ہے
ہر نفَس ذکرِ یار کرتا ہے
ہم تمنا ہزار لاتے ہیں
وہ بہانے ہزار کرتا ہے
درد دیتا ہے ساز ہستی کو
دل جگر تار تار کرتا ہے
گُل ہے، گُلشن ہے، اور وہ، دیکھیں
کون کِس کو شِکار کرتا ہے
روزِ محشر وہ محرمِ ہستی
زخم سارے شمار کرتا ہے
اہلِ گُلش نے کی رَپَٹ میری
ذکرِ فصلِ بہار کرتا ہے
تھام لیتی ہیں وحشتیں صاحب
کب کوئی اختیار کرتا ہے
مُجکو لمحہ اَجَل کا دیکھ گیا
اب مِرا انتظار کرتا ہے
شاعر : ابنِ مُنیب
(نوٹ: اپریل 2015 سے میں نے قلمی نام 'ابنِ منیب' اختیار کر لِیا ہے، ان شاءاللہ نئی کاوشیں اسی نام سے پیش کروں گا۔ پہلے اپنے نام 'نوید رزاق بٹ' سے پوسٹ کرتا رہا ہوں)
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






