درد کا ہم سے دوستانہ ہے

Poet: ibn.e.raza By: ibn.e.Raza, islamabad

درد کا ہم سے دوستانہ ہے
زندگی غم کا تانا بانا ہے

اپنا ہنسنا تو اِک بہانہ ہے
مُسکراہٹ سے غم چھپانا ہے

چار و ناچار کھا رہے ہیں ہم
جو یہاں اپنا آب و دانہ ہے

عمر گزری ہے سوچتے جس کو
اب اُسی شخص کو بُھلانا ہے

غم مِٹانے کی ایک سعی سہی
اب مقدر تو آزمانا ہے

اُس کے پہلو میں بیٹھ کر اپنا
قصۂ غم اُسے سنانا ہے

لوگ اکثر یہ بات پوچھتے ہیں
کب تلک دُکھ سے جی لگانا ہے

آج تک اِس سے کون بھاگ سکا
موت ہی زیست کا ٹھکانہ ہے

ختم ہوگا یہ زندگی کے ساتھ
ہمنوا ، روگ یہ پرانا ہے

ٹھان لی ہے یہ دوستوں نے رضاؔ
بات بے بات دل دُکھاناہےچزچ

Rate it:
Views: 552
22 Apr, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL