درد کتنا ہے جابجا مجھ میں

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

درد کتنا ہے جابجا مجھ میں
جانے کیا حادثہ ہوا مجھ میں

کون سے آہینے میں ڈھونڈوں اب
تیرا چہرا نہیں رہا مجھ میں

تھا کوئی شخص اِک مرے اندر
مجھ سے کیوں، کس لیے لڑا مجھ میں

عمر بھر کا سفر رہا درپیش
آخرش میں پہنچ گیا مجھ میں

اس قدر حبس بڑھ گیا اندر
اب مرا دم ہے گھٹ رہا مجھ میں

کیسا چلنا کہاں کا چلنا اب
راستہ ختم ہو چکا مجھ میں

ایک روگی نڈھال ہے کب سے
ایڑھیاں ہے رگڑ رہا مجھ میں

کس طرح سامنا کروں اپنا
اتنا دم اب نہیں بچا مجھ میں

پوچھ مت بعدِ ہجر کے حالات
کے برس میں ہی نہ اٹھا مجھ میں

ہر گھڑی خود میں کھویا رہتا ہوں
ایسا کیا ہے بھرا پڑا مجھ میں

عالمِ جانکنی رہا جس پر
رات وہ شخص مر گیا مجھ میں

Rate it:
Views: 482
15 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL