درد ہو جانکنی کا عالم ہو
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaدرد ہو جانکنی کا عالم ہو
ایسا کیا ہے کہ جس کا ماتم ہو
کوئی غم اب بُرا نہیں لگتا
اب جو غم ہو، بہت بُرا غم ہو
اور بھی زیست کی بڑھا مشکل
چاہتا کون ہے کہ اب کم ہو
ہجر کو شادمان رہنے دے
وصل کے بھاگ میں تو ماتم ہو
خامیاں دور کر، بنا پھر سے
خاک شائد ابھی بھی کچھ نم ہو
جسم کو ڈھانپنا ہی مقصد ہے
پھر وہ کھدر ملے، یا ریشم ہو
اُس کا آنا مریض چاہے گا
کچھ ضروری نہیں کہ مرہم ہو
ساتھ اُسکا ہو ، شام ہو اظہر
اور لو بھی دیئے کی مدھم ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






