دردِ بے اماں

Poet: Saleem Ishrat Hashmi By: Saleem Ishrat Hashmi, Karachi, Pakistan

کوئی قصہ سوکھے پیڑوں کا
اک کہانی اُجاڑ وقتوں کی
کسی درد کی شاخ پراٹکی ہوئی
یا احساس کی ڈور سے لپٹی ہوئی
کوئ غزل اُلجھے شبھدوں کی
اک انی جسم کے پار ہوئی
کوئ صلیب سینے میں گڑ گئی
کوئ زخمُ روح کو چھو گیا
کوئ بات دل میں ہی رہ گئی

ہاں جھوٹ ہے سب
بس جھوٹ ہے یہ
کون درد یہ دلُ کا سہتا ہے
آنکھوں غم کی لڑی پرؤئے
جیون کون یوں کھیتا ہے
ان کالی ٹھٹھری راتوں میں
یاد کسی کو کرتا ہے

ہاں سچ یہُ بھی نہیں
سچ وہ بھی نہیں
یہ جو دل میں کبھی اُٹھتا ہے چمکتا ہے
بے سبب ہوگا وجہ کچھ بھی نہیں
کسی رہ کوئ تعلق یا یاد سے نسبت
اس درد کی قسمت میں ایسا کچھ بھی نہیں
کوئ نشتر کوئ مرہم یا کوئی چارہ گر
اس درد بے اماں کا مداوا کچھ بھی نہیں
 

Rate it:
Views: 959
01 Nov, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL