دردِ بے اماں
Poet: Saleem Ishrat Hashmi By: Saleem Ishrat Hashmi, Karachi, Pakistanکوئی قصہ سوکھے پیڑوں کا
اک کہانی اُجاڑ وقتوں کی
کسی درد کی شاخ پراٹکی ہوئی
یا احساس کی ڈور سے لپٹی ہوئی
کوئ غزل اُلجھے شبھدوں کی
اک انی جسم کے پار ہوئی
کوئ صلیب سینے میں گڑ گئی
کوئ زخمُ روح کو چھو گیا
کوئ بات دل میں ہی رہ گئی
ہاں جھوٹ ہے سب
بس جھوٹ ہے یہ
کون درد یہ دلُ کا سہتا ہے
آنکھوں غم کی لڑی پرؤئے
جیون کون یوں کھیتا ہے
ان کالی ٹھٹھری راتوں میں
یاد کسی کو کرتا ہے
ہاں سچ یہُ بھی نہیں
سچ وہ بھی نہیں
یہ جو دل میں کبھی اُٹھتا ہے چمکتا ہے
بے سبب ہوگا وجہ کچھ بھی نہیں
کسی رہ کوئ تعلق یا یاد سے نسبت
اس درد کی قسمت میں ایسا کچھ بھی نہیں
کوئ نشتر کوئ مرہم یا کوئی چارہ گر
اس درد بے اماں کا مداوا کچھ بھی نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






