دردِ تنہائی نے مدت سے جگا رکھا ہے
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiدردِ تنہائی نے مدت سے جگا رکھا ہے
خانہءِ دل کو صرف تجھہ کو بسا رکھا ہے
شہر میں لوگ میرے حال پہ ہستے کیوں ہے؟
میں نے آنسوں کو تو خود سے بھی چھپا رکھا ہے
میرے الفاظ کی سج دھج بھی تیرے نام سے ہے
میرے جذبوں نے تجھے مثلِ دعا رکھا ہے
لڑکھڑاتی ہوئی سانسوں نے دہائی دی ہے
میری سانسوں نے تجھے مجھہ میں بسا رکھا ہے
میں نے دیکھا ہے تیری آنکھہ میں پلتا جذبہ
خواہ مخواہ تو نے کیوں اک خول چڑھا رکھا ہے؟
عشق نے مجھہ کو کہیں کا بھی نہ چھوڑا ہے مگر
اس کو کرنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
مجھہ کو کیا مرضِ مسلسل کی دوا دیتے ہو ؟
جب کہ نظروں کو تیری میں نے شفا رکھا ہے
میں تو ٹہرا تھا مسافر خرد کی منزل کا
کب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
میں بھی ہو جائو گا اک روز نمازی واعظ!
رو برو آئینہ میرے کیوں دھرا رکھا ہے؟
عکسِ احسن ہے یہی غزل میں دیکھو اس کو
اس نے ملنے کا یہ انداز ِ جدا رکھا ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






