دردِ دل
Poet: FAHEEM UR REHMAN FAHMI By: faheem ur rehman, Karachiدردِ دل جب دے وہی جو ہے دوائے دردِ دل
پھر سنائیں کس کو جاکر ہم صدائے دردِ دل
رات ساری کروٹیں بدلیں ستاروں کو گنیں
دیکھیے کس طور سے ہم کو ستائے دردِ دل
ابتدائے درد میں ہی جاں لبوں پر آگئی
دیکھیے ہوتی کہاں ہے انتہائے دردِ دل
جب تلک وہ پاس ہوں تو دور رہتا ہے مگر
دور وہ جائیں کبھی تو پاس آئے دردِ دل
تیری صورت جب تلک آئے نہ میرے روبرو
کس طرح پھر میرے ہمدم چین پائے دردِ دل
دن تو کٹ جاتا ہے دنیا کے جھمیلوں میں مگر
رات جب آئے تو اپنے ساتھ لائے دردِ دل
میں سکونِ دل کی خاطر کوئے جاناں کو چلوں
کوئے جاناں میں جو پہنچوں بڑھتا جائے دردِ دل
یاد اس کی رات بھر آتی رہی مجھکو فہیم
رات بھر کرتا رہا میں ہائے ہائے دردِ دل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






