دریا کے پاس پیاس کی شدت بڑھا گئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا دریا میں راہیں دے کہ کسی کو بچا گئے
دریا کے پاس پیاس کی شدت بڑھا گئے
دشمن کی گھیرا بندی بھی ناکام ہوگئے
ان کے ہی جال میں تو انہیں کو پھنسا دیا
دی قید سے رہائی تو حاکم بنا دیا
لوٹائی بھی بینائی پسر کو ملا گئے
کاٹا نہ تو چھری نے کہ وہ کند ہوگئی
پیاسے تڑپنے پر کبھی چشمہ بہا گئے
طوفان میں بھی کشتی سلامت ہی تو رہی
بستی کی بستی پوری اٹھا کر گرا گئے
ب کچھ تو کھو چکے تھے رہِ زندگی میں ہم
بس اک انا تھی سو میں اسے بھی گرا گئے
اس کے کرم کو وشمہ دیکھا ہے غور سے
جو بھی تھا ادنیٰ اس کو تو اعلیٰ بنا گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






