دریا گزر گئے ہیں سمندر نہیں ملا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادریا گزر گئے ہیں سمندر نہیں ملا
پیاسی رہی میں کتنی سکندر نہیں ملا
اس جیسا دوسرا نہ سمایا نگاہ میں
کتنے حسین آنکھوں سے پیکر نہیں ملا
کچھ تیر میرے سینے میں پیوست ہو گئے
کچھ تیر میرے سینے سے خنجر نہیں ملا
آنسو بیان کرنے سے قاصر رہے جنہیں
کیا کیا نہ زخم کا یہ ستمگر نہیں ملا
اک چوٹ دل پہ لگتی رہی ہے تمام شب
دل کی زمیں سے یادوں کا لشکر نہیں ملا
وہ ضبط تھا کہ آہ نہ نکلی زبان سے
دل پہ ہمارے کتنے ہی منظر نہیں ملا
وشمہ اس آفتاب میں جوہر ہے اس قدر
جس نے کسی کو اپنا بھی دلبر نہیں ملا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






