دریچہ نہ بند کر مظہر ٹھہر جا
Poet: Mazhar Iqbal Samar By: Mazhar Iqbal Samar, kharian-gujratتو میرے دل کو زخم دیئے جا
ہر روز نئے نئے غم دیئے جا
مدہوش ہو کر میں جھوم رہا ہوں
میرے نغموں کو ردھم دیئے جا
دل میں ہیں میرے آگ کی صدائیں
میری دھڑکنوں کو تو مرہم دیئے جا
کہیں چھوڑ نہ دوں رستہ وفا کا
ہم کو تو اپنی قسم دیئے جا
کب تک رہے خشک پتوں کا موسم
آ شاخ جیون کو شبنم دیئے جا
میں ہنسوں کھلوں مسکراؤں
مجھے پھر وصل کا موسم دیئے جا
آنکھیں میری ہیں چناب و جہلم
بہتے پانیوں کو تو سرگم دیئے جا
دریچہ نہ بند کر مظہر ٹھہر جا
چند صدائیں اور سر بزم دیئے جا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






