دسمبر
Poet: Hina By: Hina, کراچیدسمبر جب بھی آتا ہے
وہ پگلی پھر سے
بیتے موسم کو یاد کرتی ہے
پرانے کارڈز پڑھتی ہے کہ
جس میں اس نے لکھا تھا
میں لَوٹوں گا دسمبر میں
نئے کپڑے بناتی ہے
وہ سارا گھر سجاتی ہے
دسمبر کے ہر ایک دن کو
وہ گِن گِن کر بِتاتی ہے
جوں ہی پندرہ گزرتی ہے
وہ کچھ کچھ ٹوٹ جاتی ہے
مگر پھر بھی پرانی البم کو کھول کر
ماضی کو بلاتی ہے
نہیں معلوم یہ اس کو
کہ بیتے وقت کی خوشیاں بہت تکلیف دیتی ہیں
محض دل کو جلاتی ہیں
یوں ہی دن بیت جاتے ہیں
دسمبر لَوٹ جاتا ہے
مگر وہ خوش فہم لڑکی
دوبارہ سے کلینڈر میں
دسمبر کے صفحے کو مُوڑ کر
پھر سے دسمبر کے
سحر میں ڈوب جاتی ہے
کہ آخر اُس نے لکھا تھا
میں لَوٹ آؤں گا دسمبر میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






