دسمبر کٹ ہی جاتا ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillکبھی ہنستے ۔ کبھی روتے دسمبر کٹ ہی جاتا ہے
تیری یادوں کے بل بوتے دسمبر کٹ ہی جاتا ہے
نئی تنویر لے کر آنے والے سال کی چاہ میں
پرانے زخموں کو دھوتے دسمبر کٹ ہی جاتا ہے
کبھی جذبوں کی شورش کو آورہ چھوڑ دیتا ہوں
کبھی کر کر کے سمجھوتے دسمبر کٹ ہی جاتا ہے
تمہاری ان کہی باتیں چمکتی ہیں اندھیروں میں
ذہن میں کہکشاں بوتے دسمبر کٹ ہی جاتا ہے
کہا کل تتلیوں نے شجر کے بے رنگ پتوں کو
نہ اتنے بے صبر ہوتے ۔ دسمبر کٹ ہی جاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






