دسمبر کی ا یک شام اپنی امی کے نام

Poet: Rahat Jabeen By: Rahar Jabeen, karachi

اس سال بھی ماہ دسمبر میں
نصاب زندگی کو جو کھول کر دیکھا
تو ماضی کے جھروکوں میں
بہت چہرے ابھر کر
نظر میں آن ٹہرے ہیں
جن پہ وقت کی گردش نے
برسہا برس کی دھول ڈھالی تھی
ذہن کے کسی کونے میں
یادوں کے کئی سلسلے چل نکلے
جن پہ گردش ایام اور غم دوراں نے پردہ ڈال رکھا تھا
بہت یادیں بہت باتیں اور کئی چہرے
دکھوں کے ساتھ تھی وابسطہ
بہت یادیں بہت باتیں اور کئی چہرے
خوشی کے دنوں کی ہیں سوغاتیں
انہی یادوں اور چہروں کے تسلسل میں
کہیں کچھ دوست تھے اپنے
کہیں کچھ چاہنے والے
اور بہت سے
رہگزر زندگی کے مختصر لمحوں کے ساتھی تھے
مگر ان سب میں
نمایاں ایک چہرہ ہے
جو سب یادوں سے گہرا ہے
تصور میں ہمارے
کئی برسوں سے آن ٹھرا ہے
جو اب کے برس بھی نہ دھندلایا ہے
نہ اس پہ وقت کی کوئی دھول جمی ہے
نہ اس پہ گردش دوراں کا سایہ ہے
خوشی کے چند لمحوں کا
حسیں وہ سرمایہ ہے

Rate it:
Views: 856
03 Dec, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL