دسمبر کے گزرتے ہی

Poet: محمد مسعود نونٹگھم یو کے By: Mohammed Masood, Nottingham

دسمبر کے گزرتے ہی
برس ایک اور ماضی کی جفاؤں میں ڈوب جائے گا
اُسے کہنا
دسمبر کے گزرنے سے زرا پہلے آ جائے
محبت کی داستان کو کوئی تکمیل دے جانا
اُسے کہنا
اُسے کہنا دسمبر کا مہنہ جیسے گزرے گا
اُمیدیں ڈُوب جائیں گی وہ سپنے بھی ٹوٹ جائیں گے
اُسے کہنا
دسمبر کے گزرنے سے زرا پہلے آ جائے
اپنی اور میری محبت کو کوئی تعبیر تو دے جائے
اُسے کہنا
مقدر کو ہمارے ڈُوب جانے سے بچا لے
اُسے کہنا
دسمبر آیا اور جا بھی رہا ہے
اور اب ایک اور سال بیت جائے گا
اُسے کہنا
برس ایک اور ماضی کی جفاؤں میں ڈوب جائے گا
دسمبر کے گزرنے سے زرا پہلے آ جائے
 

Rate it:
Views: 774
10 Dec, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL