دعوی عشق کرے مجھ سے، مگر پیار نہیں
Poet: Sajid Hadayat By: Sajid Hadayat, Lahoreدعویٰ عشق کرے مجھ سے، مگر پیار نہیں
یار ہے میرا، مگر میرا طرفدار نہیں
میں نے اشکوں سے وفاؤں کی لگائی قیمت
میں محبت ہوں، محبت کا خریدار نہیں
میں پجاری ہوں نہ معبد کی تمنا ہے مجھے
میں کسی بت کی محبت میں گرفتار نہیں
جانتا ہوں کہ ابھی دھوپ میں جلنا ہے مجھے
میرے رستے میں کوئی سایہ دیوار نہیں
خار دامن میں لئیے شوق سے آ سکتے ہو
اب یہاں کوئی بھی پھولوں کا پرستار نہیں
وہ مجھے چھوڑ کے جاتا ہے تو جائے ساجد
کیا کروں آج میں اپنا بھی طلبگار نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






