دل
Poet: Farkhanda Razvi By: Farkhanda Razvi, uk حقیقت اس کے رونے کی برابر دیکھتے ہیں ہم
اُتر کر اس لیے خوابوں کے اندر دیکھتے ہیں ہم
وہ کہتا ہے میرے زکر سے خود مہکتا ہے
اسی خاطر تو سانسوں میں اُتر کے دیکھتے ہیں ہم
رکھا کرتا ہے روشن شمع کو وہ آندھیوں میں بھی
سو پروانے کی صورت خود کو دیکھتے ہیں ہم
وہ دُکھ سُکھ کے رکھے ہے پاس اپنے تتلیاں، جگنو
سو پروانے کی صورت خود کو دیکھتے ہیں ہم
لٹاتا ہے خوشی وہ اور آنسو پاس رکھتا ہے
اسی خاطر ہنسی کو اپنے لب پر دیکھتے ہیں ہم
وفاؤں پہ نچھاور کرتا ہے جان وہ اپنی
چلو خندہ اسی سے دل لگا کر دیکھتے ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






