دل اور دماغ
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAمیرے دل کی دھڑکن نے کہا
مجھے نہیں چاہیے اس کے سوا
اس کے بغیر میری زندگی ہی کیا
بند ہو جاؤں گی اگر وہ نہیں ملا
دل پھر دھک دھک کرنے لگا
دماغ نے سنی بات تو یوں کہا
دکھ ہوا کہ تیری عقل کتنی ہے موٹی
کیسی ہے جانچ، کیسی ہے تیری کسوٹی
سمجھو اگر تو یہ بات ہے بہت چھوٹی
پیار کی منزل ہوتی ہے نہ کوئی چوٹی
اور پھر دنیا پیار پر ہی ختم نہیں ہوتی
مل جائے گی اچھی اگر قسمت نہ ہو کھوٹی
دل بھی کب ہار ماننے والا تھا
وہ تو بس اندھا دھند چاہنے والا تھا
لاجک اسکی سمجھ میں نہیں آتی تھی
پر دماغ کو وہ منانے والا تھا
دماغ، دل کے سامنے بے بس نظر آیا
جاوید ہونا تو وہی تھا جو دل نے تھا چاہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







