دل بھی دلبری کی بات کریں
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreدل سے بھی دلبری کی بات کریں
اِس سے کچھ دل لگی کی بات کریں
جس سے روشن ہے میرے دل کا چراغ
ہاں اُسی روشنی کی بات کریں
چاند کیوں مارا مارا پھرتا ہے
اِس سے ہم چاندنی کی بات کریں
وہ جو ہےدل میں بے کلی کا سبب
آؤ اس بے کلی کی بات کریں
کہکشاں جس پہ رشک کرتی ہے
دوستو اس گلی کی بات کریں
جن کی چپ بھی ہے خوشبو کی مانند
ان سے کیا خامشی کی بات کریں
وہ جو پھیلی ہے چاندنی کی طرح
اُن لبوں کی ہنسی کی بات کریں
اُس میں کس چیز کی کمی ہے و سیم
کس لئے ہم کسی کی بات کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






